22 فروری 2011 - 20:30

قیدیوں کی آزادی / عظیم مظاہرے اور فرمانروا کی قدم بقدم پسپائی / رہا ہونے والے قیدی میدان اللؤلؤة میں / مظاہرین: سیاسی قیدیوں کی رہائی ہمارے مطالبات میں سے ایک مطالبہ ہے / اصل مسئلہ شراکت اقتدار ہے / بحرینی فرمانروا کا دورہ سعودی عرب / جمعرات آخری ڈیڈلائن

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے ظالم اقلیتی حکمرانوں کے خلاف مظلوم اور با استقامت عوام کا انقلاب ایسے حال میں اپنے دسویں روز میں داخل ہوا ہے کہ کئی لاکھ انسانوں کے سیل رواں نے صورت حال کو کلی طور پر تبدیل کردیا ہے. یہ واقعات آج بدھ کے ہیں: صبح 00:05 بجے ـ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے احکاماتعوامی استقامت کے نتیجے میں بحرین کے کئے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری ہوگئے ہیں اور قیدیوں کی رہائی کی کاروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔

00:15 ـ ـ عظیم ریلی اور حکمرانوں کی پسپائیکل بحرینی عوام نے ملکوں میں ہونے والی ریلیوں کا ریکارڈ توڑ دیا اور 10 لاکھ آبادی کے اس ملک کے 5 لاکھ سے زائد افراد مظاہرے اور ریلی میں شریک ہوئے جس کے نتیجے میں ناروا فرمانروا نے واضح پسپائی اختیار کی ہوئی ہے اور قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ اسی پسپائی کا حصہ ہے۔ کل کا مظاہرہ شہیدوں سے وفاداری (یا شہیدوں سے تجدید عہد) کے عنوان سے انجام پایا۔ مظاہرہ ـ ناروا فرمانروا اور ان کے نامعقول وزیروں اور ابناء الخلیفہ کے عجیب و غریب دعوؤں کے برعکس ـ شیعہ اور سنی باشندوں نے مل کر انجام دیا۔ لوگ مختلف نعرے لگارہے تھے جن میں ناروا فرمانروا کی سرنگونی سمیت لاشیعیۃ لا سنیۃ وحدہ وحدہ بحرینیۃ"، پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کو ملت مسلط کرنا بند کرو، جیسے نعرے خاص طور پر قابل ذکر تھے۔مظاہروں میں ایک رپورٹ کے مطابق پانچ لاکھ بحرینی شہریوں نے حصہ لیا اور ناروا فرمانروا ـ جو اپنے آپ کو سنی اقلیت کا نمایندہ سمجھ بیٹھے تھے ـ بری طرح مأیوس ہوگئے ہیں، وہ بحرین کے انقلاب کو فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل کرنے سے بھی مأیوس ہوگئے ہیں اور انھوں نے جب اہل سنت کو اپنی حمایت میں ریلیاں نکالنے کے احکامات جاری کئے تو سڑکوں پر صرف چند پاکستانی، بھارتی اور بنگالی مزدور نظر آئے جبکہ عوام کا کہنا ہے کہ آل خلیفہ خاندان نے ملک امریکیوں اور ہندوؤں کے ہاتھوں فروخت کیا ہوا ہے۔ 00:30 رہا ہونی والی سیاسی قیدی میدان اللؤلؤة پہنچ گئیسیاسی قیدیوں میں سے 15 قیدی رہا ہوگئی اور وہ بحرینی عوام کی عظیم اور تاریخی اور طویل المدت دھرنے میں شامل ہونے کے لئے میدان اللؤلؤة پہنچ گئے۔ میدان میں موجود لاکھوں افراد نے ان کا زبردست استقبال کیا۔ سیاسی قیدیوں میں اہل سنت کے سیاسی کارکن بھی شامل ہیں۔01:00 بجے ـ ـ قیدیوں کی رہائی ہمارے مطالبات میں سے ایک ہےانقلابی راہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ عوام کے بہت سے دیگر مطالبات میں سے صرف ایک مطالبہ تھا اور ابھی انسانی حقوق کی رعایت، عوام کو سیاسی حقوق دینا، عوام کو سیاسی عمل میں شریک کرنا، بادشاہت کو پارلیمانی اور آئینی بادشاہت میں تبدیل کرنا، وزیر اعظم اور کابینہ کا استعفی ایسے مطالبات ہیں جن پر عملدرآمد ہونا باقی ہے۔01:30 بجے ـ ـ بنیادی مسئلہ شراکت اقتدار ہے / دھرنا جاری رہے گاعمل اسلامی جمعیت کے سیکریٹری جنرل عبداللہ صالح نے کہا: حکومت کے ساتھ عوام کے اختلاف کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ حکومت عوام کو اقتدار میں شامل نہیں کرنا چاہتے۔ لہذا میدان اللؤلؤة میں عوام کا دھرنا تمام مطالبات کے حصول تک جاری رہے گا۔ 02:00 ـ ـ حمد بن عیسی سعودی عرب روانہ ہورہے ہیںسعودی عرب کی سرکاری خبر ایجنسی نے بتایا ہے کہ بحرین کے فرمانروا ـ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وطن واپسی کے وقت ہی ـ ریاض کے دورے پر نکل رہے ہیں۔ وہ بحرین کی موجودہ صورت حال پر عبداللہ سے بات چیت کریں گے۔ 02:15 بجے ـ ـ جمعرات آخری ڈیڈلائن / دوسرا مرحلہ "سول نافرمانی"بحرینی فرمانروا کے مخالفین نے مطالبہ کیا ہے کہ بحرینی شیخ کے چچا جو 40 سال سے بحرین کے وزیر اعظم ہیں، اور ان کی کابینہ جمعرات تک کابینہ مستعفی ہو اور اگر ایسا ہوا تو وہ مذاکرات شروع کرنے پر غور کریں گے اور اگر جمعرات تک کابینہ مستعفی نہ ہوئی تو عوامی احتجاج کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا اور دوسرا مرحلہ "سول نافرمانی" سے عبارت ہوگا.9:43 بجے ـ ـ میدان اللؤلؤة میں دھرنا جاریبحرینی عوام میدان اللؤلؤة میں طویل عرصے تک قیام کرنے کی تیاری کرچکے ہیں۔ لوگوں کے مختلف گروپ میدان میں آرہے ہیں، ڈاکٹروں نے بڑے شامیانی میں ڈسپنسری قائم کررکھی ہے اور کسی بھی ممکنہ صورت سے نمٹنے کی تیاری ہوچکی ہے۔ دھرنا دینے والے افراد خبررساں اداروں سے کہہ رہے ہیں کہ مطالبات پر مکمل عملدرآمد تک میدان میں رہیں گے۔ 10:15 بجے ـ ـ بحرینی انقلاب ایران کے اسلامی انقلاب سے متأثر / آئینی سلطنت بھی نامنظورمیدان اللؤلؤة میں موجود ایک سیاسی راہنما نے کہا: بحرین کی عوام نے امام خمینی رحمةاللہ علیہ اور ایرانی عوام کے انقلاب سے متأثر ہوکر حکمران خاندان کے خلاف قیام کیا۔ صادق الجمری نے میدان اللؤلؤة میں عوام کے عظیم اجتماع اور دھرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بحرین کے انقلابی نوجوان بحرینی حکومت کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور وہ نہ صرف سلطنت اور بادشاہی نظام نہیں چاہتے بلکہ وہ پارلیمانی اور آئینی سلطنت بھی نہیں چاہتے۔ 10:42 بجے ـ ـ عوام بنیادی تبدیلی کے خواہاں  بحرین کی جمعیۃ الشباب کے سربراہ نے کہا: پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت کل کے روز لاکھوں افراد نے مظاہرے میں شرکت کی اور عوام نے حکومتی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔ محمد المسقطی نے کہا: مظاہرین نے دھرنا دینے والوں کے مطالبات پر تأکید کی اور سیاسی اصلاحات اور حکومت اور آئین میں بنیادی تبدیلی جیسے مطالبات ان کے مطالبات میں بھی شامل تھے۔ المسقطی نے کہا: سینکڑوں پولیس افسر اور عام اہلکار بھی کل کے مظاہرے میں شریک تھے اور پولیس اہلکاروں نے عوام پر حکومت کے حملے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

12:00 بجے ـ ـ دسیوں پولیس مظاہرین میں شامل ہوگئےبحرینی پولیس کے دسیوں اہلکار میدان اللؤلؤة میں دھرنا دینے والے معترضین میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان پولیس اہلکاروں نے گذشتہ جمعرات کو احتجاج کرنے والوں پر بحرینی اور بیرونی سیکورٹی فورسز کے وحشیانہ حملوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ 14:00 بجے ـ ـ رہا ہونے والے سیاسی قیدیوں کی تعداد 50 ہوگئی / 27 سنی قیدی شامل ہیں بحرینی فرمانروا نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 35 مزید سیاسی قیدی رہا کردیئے اور یوں رہانی ہونے والے سیاسی قیدیوں کی تعداد 50 ہوگئی جن میں 27 سنی اور 23 شیعہ قیدی شامل ہیں۔ 14:10 بجے ـ ـ حمد بن عیسی ریاض پہنچ گئے / 3 سعودی فوجی یونٹ منطقة الشرقیہ میں

3 سعودی فوجی یونٹ منطقة الشرقیہ میں بحرین کی آبی سرحدوں پر تعینات ہوگئے ہیں تا کہ ضرورت اور عبداللہ بن عبدالعزیز کی ہدایت کی صورت میں شاہ فہد پل سے گذر کر بحرین میں داخل ہوسکیں۔ اس سے قبل گذشتہ بدھ اور جمعرات کو بھی سعودی، متحدہ عرب امارات اور قطر کی فورسز نے بحرین میں سرگرم عمل بیرونی کرائے کے سپاہیوں کے ساتھ مل کر بحرینی انقلاب کو کچلنے کی کوشش کی تھی اور ان ممالک نے عوام کے قتل عام میں شریک ہونے کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا تھا۔ 16:40 بجے ـ ـ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں -- الموسویآج ہی خلیفہ کی جیل سے رہائی پانے والے شیعہ عالم دین "سید عقیل الموسوی"، نے کہا: آج حکومت کے خلاف عوامی قیام کا دن ہے اور عوام کو ایک قدم بھی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور بے شک ہمارا مشترکھ مطالبہ "اسقاط النظام" اور بادشاہی نظام کا خاتمہ ہے۔ 17:00 بجے ـ ـ ہوائی اڈا بدستور بندبحرین کے دارالحکومت کا بین الاقوامی ہوائی اڈا بدستور بند ہے لیکن یہ اڈا کل جلاوطن شیعہ راہنما "حسن المشیمع" کی وطن واپسی کے لئے وقتی طور پر کھول دیا گیا تھا اور اس کے بعد دوبارہ بند کردیا گیا ہے۔ یادرہے کہ منامہ کا ہوائی اڈا کارکنوں کی ہڑتال کی وجہ سے بند ہے اور ایئرپورٹ کے تمام کارکن عوامی دھرنوں اور مظاہروں میں شریک ہیں۔ 17:25 بجے ـ ـ دوسرا بڑا مظاہرہ جمعہ کو ہوگا بحرینی کی ناروا سرکار کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام نے کہا ہے کہ وہ جمعہ کے روز دوسری بڑی ریلی کے لئے تیاری کررہے ہیں۔

جاری ہے ۔۔۔